شکتی کامیٹر شانِ بٹھنڈہ حضرت حاجی رتن ہندی

%db%92%d9%86%db%81%d9%86ی ؒ
۔ مولانا محمد انور امرتسری ،قاسمی ، ندوی
تاریخ دانوں نے ہندوستان میں اسلام کی آمد حجاج بن یوسف کے نوعمر کمانڈر محمد بن قاسم کی جانب منسوب کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک ایسی ذہنیت کانتیجہ ہے جو اسلام کو تلوار کے زور پر پھلتا پھولتا مانتی ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ محمد بن قاسم نے ہندوستان پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ہندوستان میں اسلام آیا۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ اتہاس کار یہ بھول گئے یا نظرانداز کر گئے کہ ہندوستان میں مذہب ا سلام کو اپنانے والا ایک شخص جسے تاریخ کے اور اق میں حاجی رتن ہندی کے نام سے جاناجاتا ہے۔ وہ ہندوستان سے تب عرب گئے تھے جب آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار مکہ کے انکار نبوت پر شق القمر ( چاند کے 2ٹکڑے ہو جانا ) معجزہ ظاہر ہواتھا۔ راجہ کنور سین کے حکم پر حضرت حاجی رتن سین وہاں پہنچے تھے وہاں اس واقعہ کی تصدیق کے بعد مشرف بہ اسلام ہوئے اور پھر ہندوستان کے لئے عازم سفر ہوئے اور اسلام کی تبلیغ واشاعت کا کام پنجاب واس کے گردونواح میں کیا ۔
جی ہاں یہی وہ حاجی رتن سین ہیں جنہیں بٹھنڈہ کا رتن کہا جاتا ہے۔ تبھی تو آج ان کی درگاہ مختلف قوموں اور مختلف مذاہب کے لوگوں کیلئے ایک عقیدت کا مقام ہے ۔ حجاز سے واپسی کے بعد رتن سین ہندی کی دنیا ہی بدل چکی تھی تبھی تو آپ نے راجا کنور سین کی وزارت چھوڑی اور زندگی کے بچے ہوئے بقیہ ایام کو خدا کی عبادت و بندگی میں ہی صرف کرنا بہتر سمجھا اور روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے حضرت پیرحاجی رتن جو ہندوستان میں بابا رتن اور ہندوستانی صحابی کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔
ہندوستانی عالم دین علامہ مناظر احسن گیلانی نے بابا رتن کی صحابیت کے انکار کرنے والوں کی دبے انداز میں طرف داری کی ہے جبکہ مولانا عبدالصمد صادر صاحب نے تائید و توثیق کرنے والوں کا کھل کر ساتھ دیا ہے۔ آپ کی جائے پیدائش کولیکر بھی اختلاف ہے ۔ مولانا گیلانی نے بٹھنڈہ لیکن مولانا صارم نے بجنور کہا ہے آپ ہندوؤں کی ایک قوم کے چوہان تھے اس خاندان کا ایک گوت تیسرا تھا ۔ آپ اسی خاندان سے ہیں ( رسالہ جہان کتب) کہا جاتا ہے کہ آپ ہندوستانی باشندے تھے ۔ ایک دن موسم گرما کی رات میں چھت پر بیٹھے تھے کہ اچانک آپ نے دیکھا کہ چاند کے دوٹکڑے ہوگئے ۔ چاند کا ایک حصہ مشرق میں اور ایک مغرب میں منقسم ہوگیا۔ اندھیرا چھاگیا ، پھر تھوڑی دیر بعد دونوں حصے اس طرح مل گئے جیسے اس میں شگاف ہی نہ ہوا ہو ۔ آپ حیران ہوئے ، آپ نے تحقیق کروائی تو پتہ چلا کہ حجاز میں آخری نبی پیغمبر رحمت حضرت محمد عربیؐ نے مکتہ المکر مہ کے کافروں کے انکار نبوت پر اس معجز ے کا اظہار فرمایا ہے بعد ازاں آپ نے حجاز کیلئے سفر کرنے کا ارادہ کیا اور بطور تحفہ کچھ املی اپنے ساتھ لے گئے۔ پیغمبر رحمت سے ملاقات کی اور آپ کے ہاتھوں مشرف بہ اسلام ہوئے (ملخص حضرت رتن سنگھ )
حضرت حاجی رتن نے اپنے اسلام قبول کرنے کے بارے میں آپ سے ملاقات کرنے والے دادبن سعدقفال سنجر ی جوایک نیک طینت اور صالح انسان تھے ان سے بیان کیا تھاکہ میں شروع میں بُت پرست تھا ۔ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ملک شام ( سیریا ) میں ہوں ، لہذا میں نئے مذہب کی تلاش میں سیریا گیا ۔ وہاں عیسائیت کابول بالا تھا ۔ میں نے عیسائیت کو اپنا لیا کچھ عرصہ بعد میں نے آخری نبی حضرت محمد مصطفی کے بارے میں سنا اور مدینہ منورہ جاکر مشرف بہ اسلام ہوا ۔
ملاقات کے بعد نبی رحمت نے میرے حق میں کئی بار لمبی عمر کی دعا کی میں آپ کے ساتھ یوم خندق ( جنگ ) میں شریک تھا ۔ پھر آپ سے اجازت لے کر اپنے وطن ہندوستان آگیا۔(بحوالہ ایک ہندوستانی صحابی)۔
آپ نے لمبی عمر کی جودعا حاجی رتن ہندی کے حق میں کی تھی اس دعا کی برکت سے آپ نے تقریباً800سال یا ایک دوسرے قول کے م طابق 632سال کی لمبی عمر پائی ۔( بحوالہ مراۃ الاسرار صفحہ 656)
حضرت حاجی رتن سین ہندی کا مقبرہ گوردوارہ حاجی رتن کے قریب بنا ہوا ہے۔ ڈاکٹر جیت سنگھ جوشی لکھتے ہیں کہ بٹھنڈہ کے مرحوم د انشور پروفیسر کرم سنگھ نے حاجی رتن کی زیارت گاہ کو بھارتیہ اسلام کا چوتھا تخت قرار دیتے ہوئے خلاصہ کیا ہے کہ حاجی رتن ہندی کے مقبرے کو بھارتیہ اسلام کے اندر وہی اہمیت اور شردھا حاصل ہے جو کہ اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ کو سرہند میں حضرت مجدد الف ثانی سرہندی ؒ کے مقام کو اور دہلی میں نظام الدین اولیا ء کی جگہ کو حاصل ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس طرح جالندھر میں صوفی پیر حضرت امام نام الدین چشتی ؒ کی درگاہ کافی پرانی ہے اسی طرح حاجی رتن کی درگاہ کا اتہاس بھی کافی پرانا ہے ۔ ایک قول کے مطابق 11ہجری میں آپ کی وفات ہوگئی۔ بٹھنڈہ میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s